19 ستمبر 2016 - 11:11
حسن روحانی کی ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر مختلف ملکوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ونزویلا میں ناوابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر مختلف ملکوں کے مزید کئی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت نے انڈونیشیا کے نائب صدر محمد یوسف کلا سے ملاقات میں عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم اور ناوابستہ تحریک کو دو اہم بین الاقوامی تنظیموں کی حیثیت سے موجودہ حساس اور تاریخی دور میں اپنے اصلی فرائض و ذمہ داریوں کو ٹھیک طرح سے ادا کرنا چاہیے۔

انھوں نے عالم اسلام کے اتحاد کے تحفظ اور اسے مضبوط بنانے کی ضرورت کو انتہائی اہمیت کی حامل قرار دیا اور کہا کہ تسلط پسند طاقتیں عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور جنگ و خونریزی چاہتی ہیں لہذا اس قسم کے اقدامات کے سلسلے میں ہوشیار رہنا چاہیے اور اسلامی معاشروں میں تشدد اور انتہا پسندی کی سوچ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

صدر مملکت نے ایران اور انڈونیشیا کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کا سیاسی اور علاقائی موقف ایک دوسرے کے بہت قریب ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تعاون اور ہم آہنگی میں مزید اضافہ کیا جائے۔

انڈونیشیا کے نائب صدر محمد یوسف کلا نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ تہران اور جکارتا مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کر سکتے ہیں اور مختلف اسلامی ملکوں میں کشیدگی اور تنازعہ پیدا کرنے کے لیے تسلط پسندوں کی کوشش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اتوار کے روز ناوابستہ تحریک کے اجلاس کے موقع پر الجزائر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالقادر بن صالح سے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے اس ملاقات میں کہا کہ اسلامی اور انقلابی ملکوں خاص طور پر ایران اور الجزائر پر موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے سیکورٹی کی فراہمی اور اخوت و بھائی چارے کی بحالی کی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے الجزائر کی قوم کے مزاحمت و خودمختاری کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ملکوں کی توانائیوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔

الجزائر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالقادر بن صالح نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔ انھوں نے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں بدامنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی مشکلات کو علاقے کے ممالک اور غیرملکی مداخلت کے بغیر حل کرنا چاہیے۔ انھوں نے الجزائر میں ہونے والے اوپیک کے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس اجلاس میں تیل کی منڈی کو متوازن بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

درایں اثنا صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے روز شمالی کوریا کی عوامی جمہوری اعلی کونسل کے سربراہ کیم یونگ نام سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صدر مملکت نے کہا کہ یہ قابل قبول نہیں ہے کہ بعض بڑی طاقتیں علاقائی مسائل میں مداخلت کر کے انھیں علاقے کی قوموں کے درمیان تنازعہ میں تبدیل کر دیں۔

کیم یونگ نام نے بھی اس ملاقات میں ایران اور شمالی کوریا کے تعلقات کو تاریخی ماضی کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیونگ یانگ ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تہران اور پیونگ یانگ کے درمیان تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

لیبلز